ایم سی بی بینک لمیٹڈ عرصہ دراز سے پاکستان کا ایک نمایاں بینک ہے۔ یہ 9 جولائی، 1947 کو تشکیل دیا گیا۔ دیگر نجی بینکوں کی طرح ایم سی بی بینک لمیٹڈ کو 1974 میں گورنمنٹ کی معاشی اصلاحات کی تحریک کے تحت نیشنلائزڈ کردیا گیا اور بعد ازاں 1991 میں نجی ملکیت میں دے دیا گیا۔بینک نے اپنے نصف صدی سے زائد عرصہ پر محیط سفر میں معیاری بینکاری، ٹیکنالوجیکل ترقی،پیشہ ورانہ طور پر معروف انتظامیہ اور محتاط و اخلاقیات پر مبنی طریقہ کار کو اختیار کرنے کی بنا پر اضافی برتری اور کامیابی کی بلندیوں کو حاصل کیا۔

سری لنکا میں ایم سی بی بینک سب سے بڑا فارن بینک ہے اور پاکستان کا یہ پہلا بینک ہے جس نے 2006 میں گلوبل ڈپوزٹری ریسپٹ کا آغاز کیا ۔ ایم سی بی بینک بیرونِ ملک ملائیشیا کے مے بینک کے ساتھ شراکت داری رکھتا ہے جس نے 2008 میں اپنے مکمل ذیلی ادارے مے بان انٹرنیشنل ٹرسٹ (لابون) برہاد کے ذریعے ایم سی بی بینک میں %20حصص اختیار کیا تھا۔

بینک کا شمار پاکستان کے قدیم ترین اور سب سے ذمہ دار بینکوں میں کیا جاتا ہے اور بین الاقوامی منڈی میں تجارت کے لیے تسلیم کیے جانے والاے چند اداروں میں سے ایک ہوتے ہوئے عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کرنے میں ایم سی بی بینک نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

ایم سی بی بینک کئی کارپوریٹ و سماجی سرگرمیوں میں بھی بھرپور انداز سے شامل ہے اور ملک کی بہتری میں مسلسل اپنا حصہ ڈالنے کے لیے کوشاں ہے۔ ایم سی بی بینک نے اپنے صارف کو مرکزی حیثیت دینے کے مقاصد کے ذریعے بینکاری کی صنعت میں بہتر خدمات اور ٹیکنالوجی کو بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ماضی میں ایم سی بی بینک کو یورو منی، ورلڈ فنانس، ایم ایم ٹی، ایشیا منی، سافا (سارک)، دی ایسیٹ ٹرپل اے، فنانس ایشیا، این ایف ای ایچ، سی ایف اے، پاکستان سنٹر آف فلنتھراپی (پاکستان مرکز برائے خدمتِ خلق) اور ایشین بینکرز کی جانب سے بینک کو پروقار قدر افزائی اور ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔

حال ہی میں بینک نے پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی (PACRA) کی جانب سے سب سے بلند درجہ ادارے کی رسک ریٹنگ ٹرپل اے (AAA) (طویل مدتی) اور اے ون پلس (A1+) (محدود مدتی) حاصل کی ہے۔